تازہ ترین
کام جاری ہے...
ہفتہ، 1 اگست، 2015

میری ماں

ہفتہ, اگست 01, 2015
جب بھی ماں پر نظر پڑتی وہ ان جھنڈیوں اور پرچموں کو دیکھ کر چپکے چپکے رورہی ہوتی،بڑا دکھ ہوتا کہ آخر کیا ہے جو ماں ہمیشہ انہی دنوں میں روتی ہے،ذرا ہوش سنبھالا تو  ماں سے پوچھنا شروع کیا کہ آپ کیوں روتی ہو؟۔ماں کہنے لگی  پتر یہ جو آپ محض جھنڈیاں لگا کر آزادی کا جشن منا لیتے ہو تمہیں پتہ ہے اس آزادی کے لئے تمہاری ماں نے کتنی قربانی دی ہے ؟ ماں بولتی چلی گئی ہم روتے رہے ،ماں کہتی بیٹا جب ہم اسی رمضان کے مبارک مہینہ میں اپنے پاک وطن کے لئے جس کی بنیاد ہر کلمہ شریف پر رکھی گئی ،ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، لاکھوں کا سازوسامان گھروں میں چھوڑ کر مہاجر ہو گئے ۔تمہارا چند ماہ کا بھائی میری گود میں تھا، ہمارے قافلہ پر سکھوں نے حملہ کیا۔ست سری اکال کا نعرہ لگانے والے انسانیت کو بھول گئے جو سامنے آیا اسے گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے گئے۔ اپنے معصوم
بچے کو بچانے کی پاداش میں میرے دونوں بازو ان کی تلواروں اور کرپانوں نے لہو لہان کر دیئے،میری انگلیاں میرے سامنے کٹ کر گر گئیں مگر میں پھر بھی تمہارے بھائی کو ان ظالمو سے نہ بچا سکی، پتہ نہیں کون کدھر چلا گیا سب بھاگ گئے ،میں بے ہوش ہو گئی ،آنکھ کھلی تو
ارد گرد لاشوں کے ڈھیر تھے اور تمہارے معصوم بھائی کی لاش کے ٹکڑے میرے  پاس بکھرے پڑے تھے۔ پتہ نہیں کس نے لاہور پہنچایا اور پھر ہسپتالوں میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تمہارے والد کیسے ہم تک پہنچے  ، یہ ایک دردناک کہانی ہے جو کسی لمحے یادوں سے اوجھل نہیں ہوتی مگر اب صرف جھنڈیاں اور پرچم لہرا کر،موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر سڑکوں پر ڈانس کرکے یوم آزادی منایا جارہا ہے۔ان شہیدوں کو اوران کی قربانیوں کو بھلا کر امن کی آشا لہرائی جا رہی ہے،ہماری قربانیوں کو بٹوارا کا نام دے کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ آج ہم جو آزادی کے سانس لے رہے ہیں یہ آزادی دراصل برصغیر کے شہدا کی بے تحاشا قربانیوں کا ثمر ہے۔ یہ پیارا پاکستان ہمیں اپنے شہدا کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔
پچھلی پوسٹ
یہ سب سے پرانی پوسٹ ہے۔
اگلی پوسٹ
یہ سب سے نئی پوسٹ ہے۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں